سائنس و ٹیکنالوجی

نظامِ شمسی کے آٹھویں سیارے نیپچون سے متعلق اہم انکشاف!

سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ نظامِ شمسی کے سب سے دور واقع سیارے نیپچون سے اربوں سال پہلے پلوٹو کے حجم کے برابر ایک فلکی جِرم ٹکرایا تھا، جس کے نتیجے میں اس کے گرد موجود کئی قدیم اجرامِ فلکی تباہ ہو گئے۔

یہ انکشاف ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والے مشاہدات پر مبنی نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

EducationalResources

تحقیق کے دوران ماہرین نے نیپچون کے تین اندرونی چاندوں پروٹیئس، لاریسا اور گیلیٹیا سمیت اس کے گرد موجود گرد آلود حلقوں کا جائزہ لیا۔ انہیں ایسی معدنیات کے شواہد ملے جو عام طور پر صرف ان اجرام میں بنتی ہیں جہاں چٹانیں طویل عرصے تک مائع پانی کے ساتھ رابطے میں رہی ہوں۔

تحقیق کی سربراہ اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان ڈیاگو کی سیارہ شناس رائلی ڈیوس کے مطابق دریافت ہونے والی میگنیشیم سے بھرپور مٹی نما معدنیات اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ نیپچون کے ماضی میں ایک انتہائی طاقتور تصادم پیش آیا، جس نے اس کے گرد موجود قدیم دنیاؤں کو تباہ کر دیا۔

EducationalResources
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت نہ صرف نیپچون کی پراسرار تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ نظامِ شمسی کی تشکیل اور ارتقا سے متعلق اہم سوالات کے جواب بھی فراہم کر سکتی ہے۔

مزید دلچسپ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button