دنیا

میکسیکو؛ ٹک ٹاک لائیو کے دوران معروف انفلوئنسر کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا

میکسیکو میں سیزر گاستیلم نامی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر کو ٹک ٹاک پر لائیو اسٹریمنگ کے دوران فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سیزر گاستیلم شمالی ریاست سینالوا کے دارالحکومت کولیاکان کے علاقے ٹریس ریوس میں فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر اپنے دوستوں کے ساتھ ٹک ٹاک پر لائیو ویڈیو بنا رہے تھے۔

اسی دوران موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح افراد وہاں پہنچے جن میں سے ایک حملہ آور نے قریب سے سیزر گاستیلم پر فائرنگ کر دی۔ جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے جبکہ دونوں حملہ آور فرار ہوگئے۔
سیزر گاستیلم کے ٹک ٹاک پر 5 لاکھ سے زائد فالوورز تھے اور وہ زیادہ تر مزاحیہ ویڈیوز، روزمرہ زندگی کے دلچسپ لمحات اور تفریحی مواد شیئر کرتے تھے۔ انسٹاگرام پر بھی وہ سفر، مہنگی گاڑیوں اور اپنی نجی زندگی سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کرتے رہتے تھے۔

Birds
حملے کے وقت سیزر اور ان کے دوست نارنجی رنگ کی وہ جیکٹس اور بیگ پہنے ہوئے تھے جو عام طور پر فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز استعمال کرتے ہیں۔ ابتدا میں پولیس نے مقتول کو ڈیلیوری ورکر سمجھا تاہم بعد میں ان کی اصل شناخت سامنے آئی۔

پولیس اور فرانزک ماہرین نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر گولیوں کے خول، قریبی سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور دیگر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

تاحال کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور نہ ہی یہ واضح ہو سکا ہے کہ مقتول کو پہلے سے کسی قسم کی دھمکیاں موصول ہوئی تھیں یا نہیں۔

یہ پہلا واقعہ نہیں کہ میکسیکو میں کسی سوشل میڈیا شخصیت کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ گزشتہ سال 23 سالہ ٹک ٹاکر ویلیریا مارکیز کو بھی بیوٹی سیلون میں ٹک ٹاک لائیو کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا۔

سیزر گاستیلم کی سوشل میڈیا پوسٹس میں ایک تصویر ایسی بھی تھی جس میں وہ مقتول انفلوئنسر لیوباردو آئسپورو المعروف ’’ایل گورڈو پیروچی‘‘ کی قبر پر موجود تھے۔

لیوباردو کو دسمبر 2024 میں قتل کیا گیا تھا، جس کے بارے میں پولیس کا خیال تھا کہ اس کا تعلق سینالوا کارٹیل کے دو متحارب دھڑوں ’’لاس چاپیتوس‘‘ اور ’’لا ماییزا‘‘ کے درمیان جاری خونریز تنازع سے ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ ریاست سینالوا میں ستمبر 2024 سے منشیات فروش گروہوں کے درمیان شدید جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث کولیاکان اور اس کے گردونواح میں امن و امان کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔

مزید دلچسپ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button