پاکستانی صدر اور وزیراعظم نے کشمیر کے لیے جاری رہنے والی سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعلان کیا

پاکستان کے صدر عاصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیر کے حق داروں کے لیے مسلسل سفارتی اور اخلاقی حمایت کا عہد کیا۔ دونوں نے ایک مشترکہ بیانیہ جاری کیا جس میں انہوں نے بھارت پر 1 اگست 2019 کے بعد کے اقدامات کو الٹنے کا مطالبہ کیا۔ معاون وزیر برائے خارجہ، ڈِر۔ حیات قریشی نے کہا کہ کشمیر کا تنازع علاقائی امن پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے پاکستان نے کشمیر کے عوام کو اپنی پائیدار حمایت کا یقین دلایا۔
صدر اور وزیراعظم کی یہ مشترکہ پیشکش اس وقت سامنے آئی جب بھارت نے 2019 کے بعد کشمیر کے آئین و قانون میں کئی تبدیلیاں کی تھیں۔ پاکستان نے اس سلسلے میں اپنی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر کے عوام کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سماجی طور پر متحد رہیں گے۔
کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی حکومت کی مسلسل توجہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ ایک اہم قومی اور بین الاقوامی موضوع ہے، جس کا اثر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے پر پڑتا ہے۔




