دنیا

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے دو مساجد کو آگ لگا دی

نابلس: فلسطینی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی آبادکاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو مساجد کو نذرِ آتش کر دیا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

مزید دریافت کریں
History
میڈیا کوریج
Language Resources

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق پہلا واقعہ نابلس کے جنوب میں واقع قصرہ قصبے میں پیش آیا، جہاں زیرِ تعمیر ایک مسجد کو آگ لگا دی گئی۔ قصبے کے میئر عبدال عظیم وادی نے بتایا کہ آگ سے مسجد کا مرکزی دروازہ، داخلی حصہ اور پتھروں سے بنی دیواروں کو نقصان پہنچا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نعرے بھی تحریر کیے، جن میں انتقام کا لفظ بھی شامل تھا۔

Flora& Fauna

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ مسجد میں آگ لگنے کی اطلاع ملنے پر فوجی موقع پر پہنچے تاہم مبینہ حملہ آور پہلے ہی فرار ہو چکے تھے۔ فوج کے مطابق جائے وقوعہ پر آتشزدگی اور دیواروں پر لکھے گئے نعروں کے شواہد ملے ہیں، جبکہ اسرائیلی پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ایک الگ واقعے میں فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے بتایا کہ طولکرم کے قریب واقع گاؤں کور میں بھی اسرائیلی آبادکاروں نے ایک مسجد کو آگ لگا دی اور اس کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے تحریر کیے۔

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جمعے کے روز تل نامی گاؤں میں بھی اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے نابلس اور آس پاس کے علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد فلسطینیوں کو گرفتار کیا۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں کم از کم 1,097 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

مزید دلچسپ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button